Blog entries from Athar

Athar has a total of 30 entries.

  1. Athar
    وفا کو جانے دو ہجر کی بات کرتے ہيں يہ رسِم دنيا ہے اسی کی بات کرتے ہيں پت جھڑ کے موسم ميں ضد نہيں کرتے نۓ برگ و بار کو آنے سے روکا نہيں کرتے محبت کی تپش ہے ہجر ميں جلنے دو وفا کے ثمر کو پکنے سے روکا نہيں کرتے نگاہيں پوچھتی تھی قدم اٹُھ گۓ تھے ادھوری محبت کی پوری کہانی کيسے بيان کرتے
    Athar, Oct 24, 2012
  2. Athar
    وفا کو جانے دو ہجر کی بات کرتے ہيں يہ رسِم دنيا ہے اسی کی بات کرتے ہيں پت جھڑ کے موسم ميں ضد نہيں کرتے نۓ برگ و بار کو آنے سے روکا نہيں کرتے محبت کی تپش ہے ہجر ميں جلنے دو وفا کے ثمر کو پکنے سے روکا نہيں کرتے نگاہيں پوچھتی تھی قدم اٹُھ گۓ تھے ادھوری محبت کی پوری کہانی کيسے بيان کرتے
    Athar, Oct 24, 2012
  3. Athar
    اتنا تکلف نہ کيجۓ جو کہنا ہے کہہ ديجۓ سازِ دل کو چھيڑ ديجۓ تھوڑا سا گنگنا ديجۓ وعدہ شب کو جانے ديجۓ اس شام کو حسيں بنا ديجۓ ماہِ شب کو اب رہا کيجۓ ذلفوں کو چہرے سے ہٹا ديجۓ شامِ رخصت ہے کرم کيجۓ پھر صبح ہو گی ؟ بتا ديجۓ
    Athar, Oct 2, 2012
  4. Athar
    کچھہ بھی آساں نہيں ہوتا خود سے نظريں چُرا لينا سپنے آنکھوں ميں قيد کر لينا ھمنوا کو ھمسفر بنالينا ستارے زميں پر بچھا دينا کچھہ بھی آساں نہيں ہوتا ڈوبتے سورج کو روک لينا سرکتی شام کو شب سے بچا لينا سکوتِ شب ہوتی سرگوشی کو مات دينا اکِ ديا جلا کر صبح کا انکار کرنا کچھہ بھی آساں نہيں ہوتا برستیِ دھوپ ميں ابرِ سايہ دار ملنا دل پہ آئ نمی پر مسکرا دينا برستے آب ميں بھيگی تتليوں ديکھ کر من کی خواہش کو...
    Athar, Sep 30, 2012
  5. Athar
    پھولوں کا مسکن ہو تتلياں کب ہاتھ آتی ہيں سنا ہے خالی مکاں ميں آسيب رھتے ہيں ذات ميں تنہا بھرے گھر ميں رہتا ہوں مرے اطراف بہت سارے لوگ رہتے ہيں کفِ پا زرد پتے بھی چيخ اٹھتے ہيں مکیںِ دل کو شہر ميں ڈونڈھ تے ہيں من ميں لگی آگ کی تاثير نرالی ہے برسات کے موسم ميں يہ اور بھڑکتی ہے کئ برس سے ايک جيسے موسم ہیں خزاں نے ذات ميں جڑيں بنا لی ہيں
    Athar, Sep 27, 2012
  6. Athar
    گۓ برس اسکو ديکھا تھا چہرہ اسکا چاند لگا تھا زلفوں ميں گھرا ، بادل ميں چھپا ايسا ہی کچھ محسوس ہوا تھا اپنی چھت پر ذات ميں تنہا سر جھکاۓ ہاتھ اٹھاۓ جانے کس کو مانگ رہا تھا آج کی شب بھی وہ اکيلا تھا عيد کو اپنے ڈھونڈ رہا تھا
    Athar, Aug 23, 2012
  7. Athar
    سوچ کے سمندر ميں انگنت لہريں صدائيں ساز بن کر يوں اترتی ہيں جيسے بارش کا قطرہ نويد زندگی ہو کسی کی ياد کا منظر جب، اس قدر سہانا ہو دل کے آنگن ميں درِ دل پر ہوائيں دستک سا ديتی ہو تتليوں کی آمد ہو جگنؤں کی بارش ميں گلاب قدموں پر تتلياں اترتی ہوں چاند چہرے پر جگنوُ بھی وار ہو چوڑيوں کی جھنکار ميں اک ساز کی آواز ہو دامنِ دل پر ست رنگی چوڑيوں کی برسات ہو وصال لمحوں ميں گم ہو کر خواہشيں سر اٹھاتی...
    Athar, Aug 13, 2012
  8. Athar
    دردِ دل کا يہ اصول ہے متاع جاں ہے جو دور ہے ايسا تو نہيں کہ پياس نہيں ہے بيچ سمندر پانی کی آس نہيں ہے خط ہاتھوں ميں لئے ديکھا تھا پھاڑے کہ دل سے لگايا ياد نہيں ہے جھيل آنکھوں ميں خود کو ڈھونڈا تھا آنکھيں کب جھيل ہوئيں ، ياد نہيں ہے کہنے کو بہت کچھ ، مگر اقرار نہيں ہے کچھ تو ہے اطہر جو ترے پاس نہيں ہے
    Athar, Aug 9, 2012
  9. Athar
    سپنوں کا ايک چہرہ ہے دائرے ميں رہتا ہوں اس کی تلاش ميں گم ہر چہرہ پڑھتا ہوں طوفاں ہے کہہ ہواؤں کا شور ہے بحر موج ميں ہلچل سی ديکھتا ہوں ڈوبنے کا منظر آنکھوں ميں ہے ساحل سے سمندر ديکھتا ہوں ايک کشمکش نے روک رکھا ہے ديکھ کر بھی انجان رہے سوچتا ہوں اس نے نظروں سے گرايا کوئ بات تو ہو گی معافی کا طلبگار ، سجدے ميں پڑا ہوں دعاؤں ميں جو شامل ہے اذل سے حسرت ہے کہوں اس کو بھی عيد مبارک
    Athar, Aug 6, 2012
  10. Athar
    آنکھ کھلنے تک خواب باقی تھا سبزے پہ شبنم کا نشاں باقی تھا خوابوں کے رازداں خواب ہوۓ سراب قدموں کے نشاں باقی ہيں ايک مانوس سی آہٹ اسکا پتہ ديتی ہے آنگن ميں تتليوں کا سفر باقی ہے دل کے احساس کو بياں کيسے کريں مقتل ميں خوابوں کا قتل باقی ہے بھلا نے کے سارے رستے بند کر گيا ہے دعاؤں ميں ياد رکھنا اتنا سا کہہ گيا ہے
    Athar, Jul 26, 2012
  11. Athar
    پچھلے پہر کے سناٹے ميں يادوں کی صبح ہوتی ہے شال ميں لپٹا اک سندر سپنا ہم سے گويا ہوتا ہے ہماری ہتھيلی تو سونی پڑی ہے تم فلک پر کيا ديکھتے ہو جو زميں پر ہم کلام ہے تم سے اسے ستاروں ميں کيوں ڈھونڈتے ہو محبت کی روٹی بہت خوبصورت ضرورتيں مگر اس سے سوا ہيں روح کے تقاضے اپنی جگہ چاہت کی چادر سرکنے لگی ہے بہت سے داۂرے ہيں اَن ديکھے آنگن ہيں مجھ کو الزام مت دينا صبح تک ستارہ ڈھونڈ رکھنا يا شب کو روک...
    Athar, Jul 25, 2012
  12. Athar
    بہت اداس ہيں ، کتاب ورق الٹتے ہيں ايک چہرہ پھر سے پڑہتے ہيں مجھے طلب تھی زندگی کی اسے روشنی سے پيار تھا ميری جستجو تلاش تھی ، سو صبا کے سر رہی وہ ساحل کی طرح سمندر کے ساتھ تھی ميں منتظر تھا کوئ بات ہو وہاں موج تہہ آب تھی زير لب تبسم کو کيا نام ديتے ہم بيقراری خود ہی آشکار تھی ميری آرزو پہل ادھر سے ہو وہ ميرا چہرا پڑھتی تھی ہمنوا نہ ھمسفر ، نہ اجنبی رہی متاع جاں تھی ، ميری روح ميں بسی رہی وہ مکيں...
    Athar, Jul 9, 2012
  13. Athar
    فنا اور بقا درمياں ، چار دن کی زندگی اک مسلسل امتحاں ہے ، صديوں پہ بھاری ہے ہر راستہ نۓ رستے سے ملتا ہے سانس کھو نے تک ، اپنی مات ہونے تک کہکشاؤں کا سفر بھی لحد سے گزرتا ہے رزقِ خاک ہوں ، مٹی تو ہونا ہے اکِ نۓ سفر کا آغاز ہونا ہے ميرا حق تو نہيں ہے ، پھر بھی جانے والے کو وداع کر دينا کچھ دعائں سامانِ سفر کر دينا
    Athar, Jun 14, 2012
  14. Athar
    آگہی کے ہونے تک،زندگی کو کھونے تک ايک خواب کا تسلسل تھا،روشنی کے ہونے تک صبح اسکی تھی ، شام اسکی تھی ميں کہاں تھا ، اپنی مات ہونے تک سفر کے سب نشاں ، پانی پہ لکھی ہوئ داستاں يادوں کا اکِ کارواں ، ساتھ اسکے چلتا رہا منزلوں کے سب نشاں ، خالی آنکھوں ديکھتا رہا اپنے ہی شہر ميں اجنبی پھرتا رہا عکس کی تلاش ميں آبلہ پا چلتا رھا سماعتوں کا قصور تھا ، يا دل ہی بيقرار تھا وہ اسکی بات کو معنی اپنے ديتا رہا...
    Athar, Jun 13, 2012
  15. Athar
    سيڑھی سانپ بن رہی تھی وہ دأیرے کی صورت سيڑھياں چڑھ رہی تھی ہاسٹل ميں رہتی تھی صبح اسی سيڑھی پہ ملتی تھی اکِ جيجھک تھی اس سے بات کرنے ميں اُدھر بھی شانِ بے نياذی تھی احساس کی تپش اس تک پہنچ گئ تھی نۓ موسموں تک وہ بہت بدل گئ تھی فاصلے عيا ں ہوۓ ، قربتيں ہوا ہوئيں پانے کی آرزو مجھے تنہا کر گئ تھی مرے وجود کو زہر کر گئ تھی وہ جو دائرے کی صورت سيڑھياں چڑھ رہی تھی -----------------------------------...
    Athar, Jun 11, 2012