آگہی

Blog entry posted by Athar, Jun 13, 2012.

آگہی کے ہونے تک،زندگی کو کھونے تک
ايک خواب کا تسلسل تھا،روشنی کے ہونے تک
صبح اسکی تھی ، شام اسکی تھی
ميں کہاں تھا ، اپنی مات ہونے تک
سفر کے سب نشاں ، پانی پہ لکھی ہوئ داستاں
يادوں کا اکِ کارواں ، ساتھ اسکے چلتا رہا
منزلوں کے سب نشاں ، خالی آنکھوں ديکھتا رہا
اپنے ہی شہر ميں اجنبی پھرتا رہا
عکس کی تلاش ميں آبلہ پا چلتا رھا
سماعتوں کا قصور تھا ، يا دل ہی بيقرار تھا
وہ اسکی بات کو معنی اپنے ديتا رہا
اس نے کب کہا تھا ، پيار ہے تم سے
وہ دوستی ميں رشتے تلاش کرتا رہا
اس کا تصور اسے ليجاتا تھا
وہ اس گلی ميں رہا ، شام ہونے تک
Oreo and nda malic like this.