فنا اور بقا درمياں ، چار دن کی زندگی
اک مسلسل امتحاں ہے ، صديوں پہ بھاری ہے
ہر راستہ نۓ رستے سے ملتا ہے
سانس کھو نے تک ، اپنی مات ہونے تک
کہکشاؤں کا سفر بھی لحد سے گزرتا ہے
رزقِ خاک ہوں ، مٹی تو ہونا ہے
اکِ نۓ سفر کا آغاز ہونا ہے
ميرا حق تو نہيں ہے ، پھر بھی
جانے والے کو وداع کر دينا
کچھ دعائں سامانِ سفر کر دينا
امتحاں
Blog entry posted by Athar, Jun 14, 2012.
Jabeen malic and nda malic like this.