سپنوں کا ايک چہرہ ہےدائرے ميں رہتا ہوں
اس کی تلاش ميں گم
ہر چہرہ پڑھتا ہوں
طوفاں ہے کہہ ہواؤں کا شور ہے
بحر موج ميں ہلچل سی ديکھتا ہوں
ڈوبنے کا منظر آنکھوں ميں ہے
ساحل سے سمندر ديکھتا ہوں
ايک کشمکش نے روک رکھا ہے
ديکھ کر بھی انجان رہے سوچتا ہوں
اس نے نظروں سے گرايا کوئ بات تو ہو گی
معافی کا طلبگار ، سجدے ميں پڑا ہوں
دعاؤں ميں جو شامل ہے اذل سے
حسرت ہے کہوں اس کو بھی
عيد مبارک
عيد مبارک
Blog entry posted by Athar, Aug 6, 2012.
nda malic likes this.