اس کے آنگن میں دیکھوپھول کتنے ہیںعزاب لمحوں کو چن کراک شجر کردوہر سفر کی منزل نہیں ہوتیکچھ راستے لا حاصل بھی ہوتے ہیںسکوت شب کی یلغار کو دیکھوخشک آنکھوں کی برسات کو دیکھولبوں پرجوآتی ہےاس فریاد کو دیکھواک لمحے میں کتنی بار مرتے ہواب اذیت کا سلسلہ ختم کررواس دل کو دفن کرروبہت زخم سہہ لیے تم نےیہی حاصل ہے محبت کااب کتبے میں خود کو گم کررو
لا حاصل
Blog entry posted by Athar, May 22, 2012.
Sadia Butt, Jabeen malic, nda malic and 1 other person like this.