ياد نہيں ہے

Blog entry posted by Athar, Aug 9, 2012.

دردِ دل کا يہ اصول ہے
متاع جاں ہے جو دور ہے
ايسا تو نہيں کہ پياس نہيں ہے
بيچ سمندر پانی کی آس نہيں ہے
خط ہاتھوں ميں لئے ديکھا تھا
پھاڑے کہ دل سے لگايا ياد نہيں ہے
جھيل آنکھوں ميں خود کو ڈھونڈا تھا
آنکھيں کب جھيل ہوئيں ، ياد نہيں ہے
کہنے کو بہت کچھ ، مگر اقرار نہيں ہے
کچھ تو ہے اطہر جو ترے پاس نہيں ہے